ہر کسی پر مکوکا لگانے والی ایجنسیوں کو اپنے اعمال نامہ کا جائزہ لینا چاہیے :مولانامحمودمدنی
ممبئی28جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا) اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں جمعےۃ علماء مہاراشٹرا کو اپنے مقدمات پر بڑی کامیابی ملی ہے ۔ دو افراد عبدالعظیم وفیروزدیشمکھ سمیت آٹھ افرادکو اسپیشل مکوکا عدالت نے بری کردیا ہے ، عبدالعظیم اوردیشمکھ کامقدمہ خاص طور سے جمعےۃ علماء ہندکے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پرجمعےۃ علماء مہاراشٹر لڑرہی تھی۔جمعیۃ علماء کی جانب سے مکوکا عدالت میں اس مقدمے کی پیروی سینئر کریمنل ایڈوکیٹ مبین سولکرنے کی۔ جنھوں نے پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ ثبوتوں سے ہی ملزمین کوبے قصور ثابت کردیاجس کے بعدعدالت نے ان دونوں سمیت آٹھ افرادکوبری کرتے کہاکہ کسی پربھی مکوکا قانون کااطلاق نہیں ہوتا ہے۔مبین سولکر نے کہا کہ یہ مقدمہ فی الوقت صرف بیس افرادکے خلاف تھا ، جن میں سے بارہ افراد کو مجرم قرار دیا گیا ہے ، حالاں کہ ابھی ان کو سزا نہیں دی گئی ، تاہم یہ اچھی بات ہے کہ آٹھ افراد بری ہوگئے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ فیروز دیش مکھ کا مقدمہ، خفیہ ایجنسیوں کی جھوٹی گواہی تیارکرنے اورجبری اقرار نامہ لینے کو بے نقاب کرتاہے، اس کے معاملے میں عبدالصمد نامی کسی گواہ کو اصل قراردیا گیا تھا ، جس نے خود عدالت میں کہا کہ نہ تو وہ دیشکمھ کو جانتا ہے او رنہ ہی کبھی کال کیا ۔جس کے مدنظر عدالت نے گواہی کو رد کرتے ہوئے دیشکمھ بری کردیا ، اس کیس میں دوسرے وکیل ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان تھے ، انھوں نے کہا کہ عبدالعظیم پر اسلحہ سے بھری ہوئی گاڑی پارک کرنے کا الزام تھا۔ حالاں کہ فیروز دیشمکھ کو عدالت نے پہلے ہی ضمانت دے دی تھی، تاہم عبدالعظیم ہنوز جیل میں تھا ، مگر کل کے فیصلے کے بعد اس کی بھی رہائی ہوگئی ہے۔
اس فیصلے پر جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ان دونوں مقدمات میں ملی کامیابی پر وکلاء اور جمعےۃ علماء مہاراشٹر ا کے صدر حافظ ندیم صدیقی وغیرہ قابل مبارک باد ہیں ، وہیں اس جانب بھی توجہ دلائی کہ ایجنسیوں کو اس فیصلے کی روشنی میں اپنے اعمال نامہ کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ وہ مستقبل میں مکوکا یا اس جیسے سنگین ایکٹ نافذ کرنے سے قبل الزام کی نوعیت اور اس کے اثرات پر سنجیدہ ہوں ، مولانا مدنی نے کہا کہ حال میں بے قصوروں کی پے درپے رہائی سے ہمیں حوصلہ ملا ہے اور ان شاء اللہ مستقبل میں پورے عزم سے بے قصوروں کی رہائی کی جدوجہد جاری رہے گی ۔ان مقدمات کا مرکز کی طرف سے کوآرڈی نیٹ کرنے والے ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی مقدمات اور الزام کی نوعیت کا جائزہ لینے کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے تاہم فیروز دیشمکھ کے معاملے سے اتنا تو ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اور ایجنسیاں ملز مین کے خلاف کس طرح جھوٹے گواہ تیا کرتی ہیں۔